ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / غیر قانونی کانکنی کیس،ایس ایم کرشنا اور کمار سوامی کے خلاف جانچ کرنے عدالت کا حکم

غیر قانونی کانکنی کیس،ایس ایم کرشنا اور کمار سوامی کے خلاف جانچ کرنے عدالت کا حکم

Tue, 20 Sep 2016 11:22:45    S.O. News Service

بنگلورو20؍ستمبر(ایس او نیوز)غیر قانونی کانکنی کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوکر رشوت ستانی کرنے کے الزام میں سابق وزرائے اعلیٰ ایس ایم کرشنا اور ایچ ڈی کمار سوامی کے علاوہ مختلف افسران کے خلاف درج مقدمہ کی سماعت کرنے کیلئے سپریم کورٹ نے آج ایک خصوصی ٹیم قائم کرنے کی ہدایت جاری کی۔ آج اس سلسلے میں عدالت کی ڈویژنل بنچ نے سماعت کرتے ہوئے ایس ایم کرشنا اور کمار سوامی کے خلاف درج غیر قانونی کانکنی کے مقدمات کو ایس آئی ٹی کے ذریعہ جانچ کرواکر عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔ اس کیس میں ایس ایم کرشنا اور کمار سوامی کے علاوہ ایک اور سابق وزیراعلیٰ دھرم سنگھ اور گیارہ افسران شامل ہیں۔ان تمام کے خلاف غیر قانونی کانکنی میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے لوک آیوکتہ عدالت میں ایک نجی شکایت درج کرائی گئی تھی۔ لوک آیوکتہ کی طرف سے غیر قانونی کانکنی کی جانچ کی جو رپورٹ پیش کی گئی تھی اس میں ایس ایم کرشنا ، کمار سوامی اور دھرم سنگھ کے نام ہٹا دئے گئے تھے۔ساتھ ہی کمار سوامی کے خلاف کارروائی کرنے کی کوئی مناسب سفارش نہیں کی گئی تھی۔ اسی لئے ٹی جے ابراہم نامی سماجی کارکن نے ان لوگوں کے خلاف مقدمہ چلانے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیاتھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایس ایم کرشنا نے اپنے دور اقتدار میں غیر قانونی کانکنی کیلئے مواقع فراہم کئے تھے، اس کے ساتھ ہی بسپا ریڈی، وظیفہ یاب آئی اے ایس آفیسر کے ایس منجوناتھ ، ایم رامپا ، شنکر لنگیا اور دیگر آٹھ افسران پر انہوں نے غیر قانونی کانکنی میں ساتھ دینے کے الزامات لگائے تھے۔ابراہم نے اپنی شکایت میں ایس ایم کرشنا کو ملزم نمبر ون قرار دیاتھا، جبکہ دھرم سنگھ اور کمار سوامی کو علی الترتیب دوسرا اور تیسرا ملزم بتایا گیا تھا۔اس کے علاوہ آئی اے ایس افسران گنگا رام بڈیریا ، وی امیش ،آئی آر پیرومال، وظیفہ یاب افسران کے ایس منجوناتھ، ڈی ایس اشوتھ ، جیجا مادھون ہری سنگھ، مہیندرا جین ، کے سرینواس وغیرہ شامل ہیں۔ ابراہم نے اپنی شکایت میں ان تمام افسران کوملزمین قرار دیا تھا۔ اس سے پہلے اس کیس کی جانچ کیلئے لوک آیوکتہ ایس پی کی قیادت میں ایک ٹیم قائم کی گئی تھی۔ تاہم معاملہ سپریم کورٹ میں چلے جانے کے سبب جانچ کو آگے بڑھایا نہیں جاسکا تھا۔


Share: